اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق غاصب یہودی ریاست نے مغربی کنارے میں ایک فلسطینی باشندے کو شہید، کئی افراد کو زخمی اور 15 کو گرفتار کیا۔
گرفتار ہونے والوں میں حماس کے تین اہم راہنماؤں فرج رمانہ، حسین ابو کویک اور جمال الطویل بھی شامل ہیں جنہیں یہودی ریاست کے فوجیوں نے ان کے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا ہے۔
جمال الطویل نے گرفتاری کے وقت العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: صہیونی ریاست کسی بھی فلسطینی کو اس ریاست کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت نہيں دینا چاہی یا قدس کو یہودیانے کی سازش کے خلاف مظاہرہ کرے بلکہ اس کی خواہش ہے کہ اپنے مقاصد کو کسی تنقید و اعتراض کا سامنا کئے بغیر حاصل کرلے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست ایک بھی فلسطینی کو رہا نہیں کرتی مگر یہ کے اس کے بدلے ایک فلسطینی کو گرفتار کر لیتی ہے اور 26 فلسطینیوں کی رہائی کے بعد 30 فلسطینیوں کی گرفتاری اسی صہیونی خصلت کا ثبوت ہے۔
صہیونیوں نے محمود عباس کے ساتھ ساز باز کے سلسلے میں 26 فلسطینیوں کو عوفر نامی جیل سے رہا کردیا تھا جس کے بعد بنیامین نیتن یاہو نے اپنے جیسے شدت پسند یہودیوں کو دلاسا دینے کے لئے مشرقی قدس میں صہیونیوں کے لئے 1500 مکانات پر مشتمل ایک نو آبادی کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔
نیز مقبوضہ فلسطین پر قابض صہیونی ریاست نے 26 فلسطینیوں کی رہائی کے صرف ایک دن بعد قباطیہ کے علاقے میں محمد طرازعہ نامی نوجوان کو صہیونی فوجیوں کو ایک فلسطینی کی گرفتاری سے روکنے کی پاداش میں گولی مار کر شہید کردیا تھا۔
پی ایل او کی انتظامی کمیٹی کے رکن واصل ابو یوسف نے العالم کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کی گولی سے ایک فلسطینی نوجوان کی شہادت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ یہ انتہاپسند ریاست اپنے جارحانہ اقدامات کو جاری رکھتی ہے اور نوآبادیاں تعمیر کرنے، فلسطینیوں کے گھروں پر حملے کرنے اور انہیں گرفتار یا بےرحمی سے قتل کرنے سے باز نہیں آئے گی۔
ایسے حال میں شام اور لبنان میں عرب حکام ـ بالخصوص سعودی حکمران ـ مزآحمت محاذ کو شدید ترین نقصانات پہنچانے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر یہودی ریاست کو تحفظ فراہم کرنے میں مصرف ہیں؛ فلسطین کے جنوبی شہر خان یونس میں صہیونی ریاست نے حماس کے 4 مجاہدین کو شہید کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ افراد صہیونی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں شہید ہوگئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد صہیونی ریاست نے خان یونس کے مشرقی علاقے کو بھاری توپخانے سے گولہ باری کا نشانہ بنایا اور صہیونی طیاروں نے بھی اس علاقے میں پروازیں کیں اور حال ہی میں منکشف ہونے والی اس سرنگ کی طرف راکٹ پھینکے جو اشیاء خورد و نوش لانے کے لئے حماس کے مجاہدین کے زیر استعمال تھی۔
حماس کے عسکری شعبے "عزالدین قسام یونٹس" نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے تین تین مجاہدین میں سے 35 سالہ خالد محمد جمعہ ابو بکرہ، کو خان یونس کی مسجد ابوذر غفاری میں، 26 سالہ محمد رشید حسین داؤد کو مسجد رحمت میں امور 23 سالہ محمد عصام عمر قصاص کو مسجد ہدی میں شہید کیا گیا ہے۔ جبکہ صہیونی فوجیوں نے کل جمعرات کو خان یونس کے مشرق میں مارٹر شیلنگ کی جس کے نتیجے میں حماس کے ایک کارکن ربیع برکہ شہید ہوگئے۔
القسام یونٹس نے اس بیان میں زور دے کر کہا ہے کہ وہ یہودی ریاست سے اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لیں گی اور مقدس سرزمین نیز فلسطین میں اسلامی مقدسات کی مکمل آزادی تک جہاد اور مزاحمت کے راستے پر گامزن رہیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭
31 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 477391
ایسے حال میں کہ عرب حکام شام اور لبنان میں یہودی ریاست کی خدمت میں مصروف ہیں، 26 فلسطینی اسیروں کی رہائی کے دو روز بعد یہودی ریاست نے 30 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا ہے اور مغربی پٹی میں 1 جبکہ خان یونس میں چار فلسطینی شہید کئے گئے ہیں۔